نئی دہلی،2/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) نئے تعزیری قوانین میں سڑک حادثے کے بعد ڈرائیور کے فرار ہو جانے کی صورت میں ۱۰؍ سال قید اور ۷؍ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا تجویز کئے جانے پر ملک بھر میں ڈرائیوروں میں شدید برہمی ہے۔اس کے خلاف پیرکو ٹرک ڈرائیورس نے ملک گیر احتجاج کیا جبکہ کئی مقامات پر بسوں کی خدمات بھی ٹھپ رہیں۔ واضح رہے کہ مودی سرکار کے پاس کردہ نئے تعزیری قوانین میں سڑک حادثوں کے ’ہِٹ اینڈ رَن‘ کیس میں خاطی ڈرائیور کیلئے سزا کئی گنا بڑھا دی گئی ہے۔ سابق قوانین میں جرم ثابت ہونے پر یہ سزا ۲؍ سال تھی۔
سڑک حادثے کی صورت میں سزا میں اضافہ کے خلاف ملک بھر میں ٹرک اور بس ڈرائیور ہڑتال کررہے ہیں۔ مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں ٹرک اور بس ڈرائیوروں کی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اُدھر مدھیہ پردیش کےبھوپال، اندور، گوالیار، جبل پور سمیت دیگر شہروں میں احتجاج کی وجہ سے بسیں نہیں چل رہی ہیں۔ راجستھان میں پرائیویٹ گاڑیوں کو آدھے دن تک چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں ٹرک ڈرائیوروں نے اپنی گاڑیاں سڑک پر کھڑی کر دیں اور ٹائروں کو آگ لگاکر سڑکیں جام کردیں۔جموں کشمیر میں بھی ٹرک ڈرائیوروں نے ٹرکوں کو اکٹھاکرکے احتجاج کیا۔بہار کی راجدھانی پٹنہ سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں مظاہرے ہوئے۔ اتراکھنڈ، پنجاب اور اترپردیش میں بھی ٹرک ڈرائیوروں نے سڑکیں بلاک کر دیں۔
آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی) نے’ ہٹ اینڈ رن‘ قانون کو سخت بنانے کی مخالفت میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے ملک بھر میں چکہ جام کا نعرہ دیاتھا جس پر رات ۱۲؍ بجے سے ہی عمل درآمد شروع ہوگیا۔ مظاہروں کے سلسلے میں اے آئی ایم ٹی سی کی اگلی میٹنگ۱۰؍ جنوری کو ہوگی، جس میں فیصلہ کیا جائیگا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔
مظاہروں میںشامل ڈرائیوروں نے نئے قوانین کو انتہائی سخت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ڈرائیوروں کی روزی روٹی متاثر ہوگی اس لئے کہ لوگ اس پیشے کو اختیار کرنے سے ڈریں گے۔ا ن کے مطابق کوئی جان بوجھ کر حادثہ نہیں کرتا بلکہ اکثر غلطی سے اس طرح کے حادثات ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ مظاہرین کہرے اور دیگر عوامل کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمیشہ ڈرائیور کی ہی غلطی نہیں ہوتی لیکن وہ اگر رُک جائیں تو اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ بھیڑ انہیں مار مار ختم کردے گی۔
اے آئی ایم ٹی سی کے صدر امرت مدان نے متنبہ کیا کہ اس نئے قانون کے پیچھے حکومت کی نیت بھلے ہی اچھی ہے لیکن اس میں بہت سی خامیاں ہیں۔ ان پر دوبارہ غور وخوض کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں سب سے بڑا حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر اور ٹرک ڈرائیوروں کا ہے۔ ہندوستان اس وقت ڈرائیوروں کی کمی سے دوچار ہے لیکن حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ایسے حالات میں۱۰؍ سال کی سزا کے بعد اب ٹرک ڈرائیور اپنی نوکری چھوڑنے پر مجبورہوگئے ہیں۔اس ہڑتال کا براہ راست اثر عام آدمی پر نظر آئے گا۔ ٹرک ہڑتال کی وجہ سے دودھ، سبزیوں اور پھلوں کی آمد نہیں ہوگی اور اس کا براہ راست اثر قیمتوں پر نظر آئے گا۔ ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بھی بند ہو جائے گی جس کی وجہ سے مقامی ٹرانسپورٹ اور عام لوگوں کو نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بہار میں ا حتجاج میں شریک ٹرک ڈرائیور منا نے بتایا کہ اسے۱۰؍ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ ایسے میں نئے قانون کے مطابق اسے ضمانت کیلئے۷؍ لاکھ روپے کہاں سے ملیں گے۔